Faisal Habeeb

Add To collaction

24-Apr-2022 لیکھنی کی غزل -

                         غزل 

ٹھوکریں کھا کے زمانے سے سنبھلنا سیکھو ۔
تیرنا سیکھ کے طوفاں سے نکلنا سيکھو۔

اِک اُنگلی جو اُٹھاؤگے کسی کی جانب ۔
چار اٹھ جاتی ہیں خود پے ہ سمجھنا سيکھو۔

اِک آندھی میں اکھڑ جاتا ہے ہر سوکھا درخت ۔
يوں اکڑ چھوڑ ذرا کچھ تو لچکنا سيکھو ۔

کام آتا ہے مصیبت میں بھلا کون یہاں ۔
خود زمانے کے مصائب سے نپٹنا سيکھو۔

دل میں رکھتے ہو تمنّا کہ وہ تمہیں یاد کرے ۔
یاد میں اسکی ذرا تم بھی مچلنا سيکھو ۔

فیصل حبیب
 لکھیم پور کھیری

   11
8 Comments

Zainab Irfan

26-Apr-2022 08:09 PM

Nice

Reply

Gunjan Kamal

26-Apr-2022 12:24 PM

Very nice 👍🏼

Reply

Neha syed

25-Apr-2022 07:45 PM

Very nice

Reply