24-Apr-2022 لیکھنی کی غزل -
غزل
ٹھوکریں کھا کے زمانے سے سنبھلنا سیکھو ۔
تیرنا سیکھ کے طوفاں سے نکلنا سيکھو۔
اِک اُنگلی جو اُٹھاؤگے کسی کی جانب ۔
چار اٹھ جاتی ہیں خود پے ہ سمجھنا سيکھو۔
اِک آندھی میں اکھڑ جاتا ہے ہر سوکھا درخت ۔
يوں اکڑ چھوڑ ذرا کچھ تو لچکنا سيکھو ۔
کام آتا ہے مصیبت میں بھلا کون یہاں ۔
خود زمانے کے مصائب سے نپٹنا سيکھو۔
دل میں رکھتے ہو تمنّا کہ وہ تمہیں یاد کرے ۔
یاد میں اسکی ذرا تم بھی مچلنا سيکھو ۔
فیصل حبیب
لکھیم پور کھیری
Zainab Irfan
26-Apr-2022 08:09 PM
Nice
Reply
Gunjan Kamal
26-Apr-2022 12:24 PM
Very nice 👍🏼
Reply
Neha syed
25-Apr-2022 07:45 PM
Very nice
Reply